اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ بھیک مانگنا مجبوری یا پیشہ بن چکا ہے ۔دیکھا گیا ہے کہ بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے پاکستان میں بھیک مانگنے والے افراد کی تعداد 25 لاکھ تک ہے خیر آپ صرف پاکستان کو ہی اس برائی کا مرکز نہ سمجھیں انڈیا نے ہمیں یہاں مات دے دی انڈیا میں بگرز کی تعداد 50 لاکھ پر مشتمل ہے نائجیریا میں ایسے افراد کی تعداد 5 لاکھ بتائی گئی ہے امریکہ چائنہ اور دیگر ممالک میں بھی ایسے افراد کثرت سے موجود ہیں…

ایسا کیوں ہے؟؟؟

یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ__🤭

بھیک مانگنا مجبوری یا پیشہ
Image: Article heading” بھیک مانگنا مجبوری یا پیشہ”

بھیک مانگنے والے افراد کے بارے میں یہ تاثر بہت عام ہے کہ وہ کام چور ہوتے ہیں تبھی ایسا کرتے ہیں جبکہ مجھے اکثر ایسا نہیں لگتا کیونکہ جہاں تک میں نے ایسے افراد کو نوٹ کیا ہے یہ مسلسل چلتے ہیں یہاں سے وہاں اور ایسا پورا دن کرتے ہیں یعنی جاب کرنے والے لوگوں کی طرح یہ بھی اپنے مخصوص وقت پر اپنے کام پر نکل جاتے ہیں اور پھر دن ڈھلنے تک یا رات گئے تک اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں_ خیر ہمارے لگنے سے کیا ہوتا ہے ۔

دراصل یہ لوگ خود کو بس اس چیز کا ماہر سمجھتے ہیں ایسے لوگ دراصل سست ہوتے ہیں۔ جنہیں مشقت کی عادت نہیں ہوتی انھیں ہاتھ پھیلانے میں بھی دقت نہیں ہوتی ہے ۔

عادتاً بھیک مانگنے والوں کی وجہ سے اکثر صحیح حقدار رہ جاتے ہیں۔‏موسٹلی ایسا ہوتا ہے کہ ہم انکو اللہ کا واسطہ دینے پر دے دیتے ہیں اور تھوڑا آگے جا کر ہمیں کوئی معذور شخص دکھائی دیتا ہے تو ہم یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ابھی تو دئیے ہیں_

حالانکہ حقدار دیکھ کر حق ادا کر دینا چاہیے….

‏بھیک مانگنے والوں میں پاکستان کی عوام دیکھی جائے تو وہ ٹھیک ٹھاک صحت مند ہو کر بھی بہت ڈھٹائی سے ہاتھ پھیلا کر اللہ کا واسطہ دیتے ہیں تو کما لیتے ہیں_بھلے وہ کمائی جائز نہ ہو انہیں کیا فرق پڑتا ہے…

‏چائنہ کی فنی وڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ اندھوں کا گیٹ اپ اختیار کرتے ہیں ۔امریکہ میں ایسے لوگ بیٹھ کر گٹار بجاتے ہیں یا خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں

‏بھیک مانگنا دراصل کمائی کا سب سے آسان ترین ذریعہ ہے ایک فقیر سے اس متعلق سوال کیا گیا تو اسکا جواب تھا کہ وہ لوگ دن میں پندرہ سے سولہ سو کما لیتے ہیں
ایسے لوگوں کے پاس بھیک مانگنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا انہیں بس محنت سے بچنے کی عادت ہوتی ہے۔

وگرنہ اب تو وہ دور ہے جہاں انپڑھ شخص کے بارے میں بھی فوری اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ انپڑھ ہے کیونکہ زمانے کے ساتھ افراد بھی اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ اپنے آپ کو معاشرے کے ماحول کے مطابق ڈھال سکیں__.

‏بہت سے انپڑھ افراد فیکٹریوں میں کام کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں پینٹ کرنے والے کنسٹرکشن میں کام کرنے والے مزدور ریڑھی لگانے والے یا فٹ پاتھ پر چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچنے والے افراد بھی انسان ہی ہوتے ہیں مگر ایسے لوگوں کو اللہ نے محنت کی نعمت سے نوازا ہے یہ لوگ تھکتے ضرور ہیں مگر مایوس نہیں ہوتے۔لہذا جب آپ کسی تندرست شخص یا عورت کو بھیک مانگتا دیکھیں تو انہیں دینے سے پہلے ان معذور اور اسکے جائز حقدار افراد کے بارے میں سوچ کر رک جائیں جو آپکو آگے ملنے والے ہیں۔

اللہ محنت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اللہ یہ شعور تمام افراد کو عطاء فرمائے_

آمین ثم آمین 💕

By: مہہ ثنا خان

Also Read Writer previous Articles:

3 COMMENTS

Your Comments Will help Us to Improve.