آج کل کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ بڑھتے مسائل کا بھی ہےبہت سے والدین کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ چودہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کو کس طرح سے ہینڈل کریں. آئیے بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ مسائل اور انکا حل تلاش کرتے ہیں ۔


       
             یاد رکھیں
یہ مسائل آج کل کے دور میں نشوونما پا رہے ہیں پہلے زمانے کے تو سخت والدین کے سادہ سے بچے تھےجنکی والدین سے توقعات امیدیں بہت کم ہوتی تھیں اس عمر میں انہیں یہ نہیں پتہ ہوتا تھا کہ وہ بڑے ہو رہے ہیں اور انہیں اٹینشن پانے کے لئے کیا کرنا ہے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے والدین کو کیسے مجبور کرنا ہے_
  
       ہاں مگر        

ان کو یہ اچھے سے پتہ ہوتا تھا پٹھو بال گرم کیسے کھیلتے ہیں گُلی ڈنڈے کے کھیل سے وہ بخوبی واقف تھے چونکہ بیٹ بال خریدنا ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا تھا تو ایک چوڑی لکڑی اور نارمل سائز کے پتھر کو بطورِ بال کیسے استعمال کر سکتے ہیں وہ اچھے سے جانتے تھے کوڑا جمال شاہی اسو پنجو برف پانی غرض کے اور بھی بہت سے کھیل جن کے مجھے نام بھی نہیں آتے اور لڑکیوں کا ایک دوسرے سے کڑھائی سیکھنا سوئیوں سے سلائی کرنا گھر کے کام کاج باپ بھائیوں کے سامنے بھی سر اور جسم بڑے دوپٹوں سے کور کرکے آنا کھلے اور گھٹنوں تک اماؤں کے ہاتھ سے بنے سادے سوٹ پہننا ایک سوٹ جو عید پہ بنتا تھا اسے دو تین سال تک فنکشنز میں اور اس کے بعد گھر میں استعمال کرنا پندرہ سال کی عمر میں شادی ہونے کے بعد ایک بڑے کنبے کی دیکھ بھال اور ذمہ داری اٹھانا ہمارے دور میں ایک ناقابلِ یقین کام ہیں جنکا تصور کرنے سے ہی ہم تھک بھی جاتے ہیں اور تھوڑا کپکپا بھی جاتے ہیں

بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ مسائل اور انکا حل
Image:بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ مسائل اور انکا حل

                               خیر یہ تو اس دور کے بڑھتے بچے تھے ہمارے دور کے بچوں کا بڑے ہونا اپنے آپ میں ایک شدید پریشانی ہے_
ہمارے دور کے بچے جیسے جیسے بڑے ہو رہے ہیں والدین کی پریشانیوں میں شدید اضافہ کر رہے ہیں 9th 10th.., کلاس میں آتے ہی لڑکوں کو خاص طور پر یہ لگنا شروع ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے ہو چکے ہیں اور انہیں اب بہت ساری سہولیات میسر ہو جانی چاہئیں جن میں موبائل اور بہت سا جیب خرچ قابلِ ذکر ہیں خیر موبائلز تو آجکل 5th کلاس کے بچوں کی بھی پہلی ڈیمانڈ ہےجنہیں کچھ والدین تو بآسانی پورا کر دیتے ہیں اور کچھ والدین کے لیے یہ ناممکنات میں شمار ہوتا ہے.       
                                                 

    *ٹین ایج کے بچے اپنے ہم جماعتوں کی چیزوں کا معائنہ اپنے پاس موجود چیزوں سے کرتے ہیں تو ان میں کمی بیشی پا کر وہ شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیںانہیں یہ لگنا شروع ہو جاتا ہے کہ انکے والدین جان بوجھ کر ان کے ساتھ ایسا کرتے ہیں اس دوران اگر کسی بہن بھائی کی کوئی ضرورت پوری کی جاتی ہے تو بچے اس چیز کو بھی غلط تاثر میں لیتے ہیں انہیں لگتا ہے والدین کو ان سے محبت نہیں ہے اور اگر یہ احساس انہیں ہو بھی کہ والدین محبت تو کرتے ہیں مگر خواہش پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس کے باوجود وہ اپنی خواہشات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتے اور اسی احساسِ کمتری کی وجہ سے وہ شدید چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں_کسی بات کا سمجھانا ان پہ الٹا اثر کرتا ہے
احساسِ کمتری

       اسی احساسِ کمتری اور چڑچڑے پن کے نتیجے میں بچے والدین سے بدتمیزی پر اتر آتے ہیں انہیں والدین کی روک ٹوک شدید بری لگتی ہے وہ والدین کی ہر اس نصیحت کے خلاف جانا شروع کر دیتے ہیں جو والدین انکی بھلائی کے لیے ان سے کہہ رہے ہوتے ہیں یہ دراصل انکا خواہشات کی تکمیل نہ کرنے پہ ایک احتجاج ہوتا ہے اکثر اس احتجاج کی وجہ سے والدین سختی پر اتر آتے ہیں اور یہ چیز بچوں کو والدین کی جانب سے مکمل مایوس کر دیتی ہے وہ باغی ہونے لگتے ہیں مار پیٹ یا طعنوں کو ڈھٹائی سے سننے کے بعد یا سننے کے دوران چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں چیزوں کو اٹھا کر پھینکتے ہیں یا بعض اوقات چھوٹے بہن بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنا دیتے ہیں_
                      جب بچوں کی خواہشات والدین کی جانب سے نامکمل رہ جاتی ہیں تو وہ خود انکو پورا کرنے کی کوشش میں اکثر غلط صحبت یا غلط راہ کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں گھر میں یا اسکول میں چھوٹی موٹی چوریوں کے عادی ہو جاتے ہیں یا ایسے لوگوں سے تعلق رکھنا شروع کر دیتے ہیں جو ان کے اندر برائی بھر دیتے ہیں بچے والدین کے خوف سے آزاد ہو کر سگریٹ نوشی اور اور بھی بہت سی غلط لت کا شکار ہو جاتے ہیں جب تک والدین کو اس چیز کا اندازہ ہوتا ہے بچے نشے کی مانند اس چیز کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ کوشش کے باوجود بھی ان حرکتوں کو مکمل چھوڑ نہیں سکتے_

                      پھر وہ معصوم بچے والدین سے متنفر ہو کر اکثر چھوٹی عمر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور سب سے بڑے دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ان اس ڈپریشن کا کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اکثر جب وہ ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار ہو جاتے ہیں اور انکی چھوٹی عمر کے باعث والدین یہ گمان بھی نہیں کر پاتے کہ کب کس وقت اس بچے کا بی پی ہائی ہے ہائی بلڈ پریشر سے انسان نا صرف سردرد چکر اور گردن درد کا شکار ہوتا ہے بلکہ وہ شدید غصہ بھی کرتا ہے اور اس غصے کے دوران مستقل بولتا بھی ہے لیکن اس چیز پہ یقین کرنا یا گمان کرنا بھی والدین تصور نہیں کرتے کہ انکا بچہ ذہنی انتشار اور دباؤ کا شکار ہے_          

      بچے خود کو بڑا سمجھنے کے چکر میں اکثر اوور کانفیڈینس کا بھی شکار ہو جاتے ہیں جس کے پیش نظر خود کو لوگوں کی نظروں میں رکھنے کے لیے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں جو والدین کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں ٹین ایجرز بچے اس حد سے بڑھی خوداعتمادی کے چکر میں بڑے چھوٹے کی تمیز اور لحاظ بھول جاتے ہیں استاد اور والدین کا احترام انکی نظروں سے غائب ہونے لگتا ہے اور اکثر ایسے بچے فیمیل ٹیچرز پر غلط کمنٹس پاس کرتے نظر آتے ہیں پرنسپل کی خارج کی دھمکی یا پیرنٹس کال کی وارننگ انہیں تھوڑا دباؤ میں تو لاتی ہے مگر اسکا اثر زیادہ دن تک نہیں رہتا وہ کچھ فن بعد واپس اپنی حرکتوں پہ آ جاتے ہیں__

اور ان سب کے بعد جب وہ تھوڑے باشعور ہوتے ہیں تو یا تو سنبھل جاتے ہیں یا ان حرکتوں کے اس قدر عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے واپسی یا سدھار کی کوئی راہ یا کوشش کام کرتی نظر نہیں آتی_

کچھ پوائنٹس ایسے ہیں جن کے اپلائی کرنے سے بہت حد تک ٹین ایجرز بچوں میں ان عادتوں کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں یا کچھ حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں

بچوں کے مسائل کے حل
  1. والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو نا تو مکمل تنہا چھوڑیں اور نا ہی ہر وقت ان کے سر پر سوار رہیں__
  2. گھر کی یا بہن بھائیوں کے معاملے میں ان سے تھوڑی بہت مشاورت کر لیا کریں تاکہ بچوں کو اپنے اہم ہونے کا احساس رہے__
  3. بچوں کی جائز خواہشات میں سے چند ایک جو ممکن ہوں انہیں پورا کر دیں اور باقی کے لیے ان سے مناسب وقت کا وعدہ کر لیں چند فیورٹ چیزیں پا کر بچے کچھ دن تک ان کی خوشی محسوس کرتے رہیں گے اور والدین کو آئندہ کے لیے تھوڑا وقت مل جائے گا_
  4. والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پہ زیادہ سختی برتنے سے گریز کریں ہلکی پھلکی ڈانٹ کے دوران بچوں کی خامیوں کے ساتھ انکی خوبیوں کا بھی ذکر کر دیں تو بچے ڈانٹ زیادہ منفی نہیں لیں گے_
  5. بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر جو جیب خرچ دیا جاتا اس میں 10٪ کا اضافہ کر کے بچوں کو ہفتے کا جیب خرچ دے دیں اور ساتھ انہیں جتا دیا جائے کہ اب اسکی مرضی وہ ایک دن میں خرچ کرے یا پورا اس میں ہفتہ گزارے اگلا جیب خرچ اسے ایک ہفتے بعد ہی ملے گا_
  6. بچوں سے اس کے اسکول کے متعلق تھوڑی بہت بات چیت کیا کریں تاکہ بچے کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اس چیز کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکے اور کچھ غلط کلک ہونے پر وقت پہ ہی اسکا سدباب کیا جا سکے_
  7. والدین کو چاہیے کہ بڑھتے بچوں سے نرمی اور احترام سے بات کیا کریں تاکہ بچے ریٹرن میں وہی انکو لوٹائیں_
  8. والدین کو چاہیے کہ رات میں تھوڑا وقت بچوں کو تھوڑا وقت دیا کریں جس میں ہنسی مذاق صحابہ کرام اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں ان سے گفتگو کیا کریں_
  9. چھوٹے بچوں کا اس چیز کا پابند بنائیں کہ وہ بڑے بھائی بہن کی مکمل عزت کریں__
  10. بچوں کے دوستوں کے متعلق مکمل آگاہی رکھیں_
  11. ہر وقت بچوں کے سامنے مسائل کا رونا نہ رویا جائے__
  12. اپنے بچوں کو دوسرے بچوں سے کمپیئر مت کریں ایسا کرنے سے آپ خود اپنے بچے کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں_
  13. بچپن میں ہی بچوں کو شکرگزاری کی عادت ڈلوائیں تو یہ عادت بہت حد تک بڑے ہونے کے بعد بھی ان میں صبر اور سکون برقرار رکھے گی__

اللہ تمام بچوں کا حامی و ناظر ہو_
آمین ثم آمین 💕

By: مہہ ثنا خان

Also read writer previous Articles:

1 COMMENT

Your Comments Will help Us to Improve.