کیا آپ کو  اپنے دوستوں ،رشتہ داروں اور حتی کے جاننے والوں سے  دھوکا ملتا ہے۔ اور یہ ہی نہیں ایک بار دھوکا کھانے کے بعد آپ پھر سے ایسے لوگوں پر یقین کرکے انکی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اور وہ ایک دفعہ پھر آپ کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے۔ تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہم سے اکثر بہت ساری وجوہات کی وجہ سے لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اپنا جذباتی ، مالی اور اخلاقی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ ہمیں اپنے سوشل سرکلر ، کاروبار اور دوستوں سے لیکر مذہبی رہنماؤں اور سیاسی لیڈروں  تک دھوکا دے جاتے ہیں۔ اصل میں انسان کی دھوکا کھانے کی کچھ وجوہات ہیں جن کو میں ایک وڈیو میں سنا اور آپ سب سے شیئر کرتی ہوں اور اگر آپ اس بلاگ کو اپنے اوپر اپیلاءی کریں تو خاطر خواہ حد تک ایسی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیں یا نیچے تحریر پڑھتے جائیں۔

 1: آپ بہت سادا مزاج ہیں:

 

یہاں سادگی سے مراد یہ نہیں کہ آپ سادا کپڑے پہنتے ہیںَ یا آپ کا آپ کا رہن سہن سادا ہے اگر ایسا ہے تو یہ تو انتہائی بہترین بات ہے اور اصولاً سب کو ہی یہ سادگی اپنانی چاہیے۔ لیکن یہاں سادگی سے مراد یہ ہے کہ آپ معاملہ فہم نہیں ہیں آپ میں اتنی قابلیت نہیں ہے کہ لوگوں کی چاپلوسی اور چکنی چپڑی جھوٹی باتوں کو سمجھ سکیں۔ انسان کو تو نہ ہی اتنا سیدھا مزاج ہونا چاہیے کہ جو کوئی ایک بات کہے اور آپ اس پر آنکھیں بند کرکے یقین کر لو جو کسی کے منہ سے سنو اسے سچ سمجھ لیں۔ اور نہ ہی شکی مزاج ہونا چاہیے کہ کوئی سچ بھی کہہ رہا اور آپ شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں ۔ انسان میں معاملہ فہمی ہونی چاہیے ان دونوں صورتوں کے درمیان میں رہنا چاہیے نہ ہی آنکھیں بند کرکے کسی پر یقین کریں نہ ہی شکوک کا شکار بنیں ایک سمجھ دار انسان بات کو سنتا سمجھتا اور غور و غوز کے بعد اس بات کو قبول کرتا ہے۔

 

2. آپ لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں:

 

اکثر دھوکا کھانے کی ایک بڑی وجہ لالچ بھی ہے ۔ یہ لالچ ہی ہے جو ہم سے جلد بازی میں غلط فیصلے کروا لیتی ہے ۔ جیسے ہم کسی یو ٹیوب چینل پر پتلا ہونے کا نسخہ دیکھتے تو فورا کلک کر لیتے چاہے اس پر عمل درآمد ممکن نہ ہو ہم محنت ورزش اور ڈأیٹ تو کنڑول نہ کریں مگر زہن میں یہ بھی ہو کہ فورا سے پتلے ہو جائیں اور ایسے شارٹ کٹ ناممکن باتوں میں فورا سے آجاتے ہیں ۔ دوسری مثال رنگ گورا کرنے والی کریموں کی لے لیں  ۔

 

3. آپکے اردگرد شاطر لوگوں کی موجودگی:

 

تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کے اردگرد انتہائی گھٹیا اور شاطر لوگ موجود ہو تے ہیں آپ جتنا مرضی احتیاط کر لیں  پھر بھی انکی باتوں میں پھنس جاتے ہیں۔ ایسے لوگ آپ کو متاثر کرنے کے لیے ہر ہربہ آزماتے ہیں کہ آپ ان پر اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ ایک دفعہ دھوکا کھاتے ہیں تو اس میں دھوکا دینے والی کی غلطی  اگر دوسری دفعہ بھی آپ اسی بندے کے ہاتھوں شکار ہو جائیں تو اس میں اگلے کا کوئی قصور نہیں بلکہ سرا سر آپ خود کے ساتھ زیادتی کر چکے ہوتے ہیں

دوسروں لفظوں میں ہماری کم عقلی اور ناسمجھی ہی وہ وجہ ہے جس کی بدولت ہم اپنے اردگر ایسے چالاک لوگوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

 

4. آپ حقیقت پسند نہیں ہیں:

 

کچھ لوگوں خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں  اور اپنی ذات سے واقف نہیں ہوتے کہ وہ اصل میں کیا ہیں۔ آپ کی اپنے بارے میں نالج کمزور ہوتی ہے ۔ اپنے آپ کو تسلی دینے اور بہتر محسوس کرنے کے لیے آپ دوسرے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایک نقشہ آپ آپنے ذہن میں بناتے ہیں اور کوئی دوسرا پھر یہ ہی بات کرے جس سے آپ کے اس جھوٹے امیج کو تسکین ملے  تو آپ فورا اسکی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اور اسکے ساتھ ہی اس بندے کی درجنوں دوسری باتوں پر بھی آنکھیں بند کرکے ایمان لے آتے ہیں۔ جیسے آپ اپنے آپ کو بہت خوبصورت تصور کرتے ہوں مگر حقیقت اسکے برعکس ہوں مگر آپ کے اردگرد کؤی دوسرا بندہ بھی یہ کہے گا تو آپ خوش ہو کر اس پر اعتماد شروع کر دیتے ہو اور اسکی ہر بات پر یقین کرنے لگو گے اور آخر کار دھوکا کھا جاتے ہو۔

Also watch: Gori Niaz A 20 Years Old Girl Married with 60 Years old man Reality

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here