علیمہ خان کی دبئی پراپرٹی کے حوالے سے کچھ حقائق ۔
 یہ ایک فلیٹ تھا جو کہ ” دی لافٹس ایسٹ ” نامی ٹاور میں واقع تھا۔ بہت سے سوشل میڈیا پہ بیٹھے،  بغض و عناد کے بھرے جماعت اسلامی کے سپورٹروں اور پٹواریوں نے اس فلیٹ کو ” اربوں ” کی جائیداد بنا کر پیش کیا اور تاثر دیا کہ جیسے سارے پاکستان کی دولت سے یہ ایک فلیٹ خریدا گیا۔

کچھ حقائق پیش خدمت ہیں:

1۔ علیمہ خان کا یہ فلیٹ دی لافٹس ٹاور نامی بلڈنگ میں تھا

2۔ پراپرٹی فائنڈر ڈاٹ اے ای دبئی رئیل اسٹیٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، اس پر اگر آپ دی لافٹس ایسٹ ٹاور کی قیمتیں چیک کریں تو ڈیڑھ ملین درھم سے لے کر ڈھائی ملین درہم کی رینج ملتی ہے، خاص کر ان فلیٹس کی جن کا ایریا چودہ سو سکوائر فٹ کی رینج میں ہو۔

3۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم ساڑھے پانچ کروڑ سے لے کر نو کروڑ کی رینج میں بنتی ہے۔ اس رقم میں لاہور ڈیفینس میں ایک کنال کا گھر مشکل سے ملتا ہے ۔ ۔ ۔ 

4۔ علیمہ خان نے 1989 میں لمز سے ایم بی اے کی ڈگری لی تھی، اور یہ غالباً لمز کا پہلا بیچ بھی تھا۔ علیمہ خان اس کے بعد ٹیکسٹائل بزنس میں آئی اور ایکسپورٹس کے شعبے میں کامیاب بزنس شروع کیا۔ اگر آپ علیمہ خان کے بزنس کو گھٹیا ظاہر کیلئے اسے ٹیکسٹائل کی بجائے سلائی مشین کا کام کہتے ہیں تو پھر سارا پاکستان ہی سلائی مشین کی کمائی کھارہا ہے کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ ٹیکسٹائل کے شعبے سے ہی وابستہ ہے۔

5۔ علیمہ خان بہت سی ملٹی نیشنل گارمنٹس فرمز کے پاکستان میں آرڈرز مینیج کرتی رہی ہے اور جو لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ اس شعبے کا کمیشن مارجن کتنا ہے۔ خود میرے جاننے والے لوگ چند برسوں میں کروڑ پتی ہوگئے۔ ایکسپورٹ کا کام ہی ایسا ہے۔

6۔ اب اگر اس شعبے کی ایک کامیاب بزنس وومن نے سات، آٹھ کروڑ کی ایک پراپرٹی دبئی میں بنا لی تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ اعظم مارکیٹ لاہور کا کوئی بھی دکاندار اتنی رقم ہر سال خرچ کر سکتا ہے۔

اب آجائیں ٹیکس کے معاملات کی طرف۔

علیمہ خان نہ تو سیاسی عہدہ رکھتی تھی اور نہ ہی سیاست میں کبھی آئی۔ اس پر یہ کبھی بھی لازم نہیں رہا کہ وہ اپنے تمام اثاثہ جات ڈیکلئیر کرتی، کیونکہ یہ ریکوائرمنٹ ان پر ہوتی ہے جو الیکشن لڑتے ہیں اور عوامی عہدے رکھتے ہیں۔

چند سال قبل ایک قانون سازی کے نتیجے میں پاکستانی بزنس مین پر یہ لازم کردیا گیا کہ وہ اپنی غیرملکی جائیدادوں کو بھی گوشواروں میں ظاہر کرے اور یہ وہی سال تھا جب علیمہ خان کے پاس دبئی کی یہ پراپرٹی تھی۔ علیمہ خان سے غلطی بس اتنی ہوئی کہ اس سے اس سال گوشواروں کا اندراج نہ ہوا۔

لیکن اس غلطی کا خمیازہ اسے اس طرح بھگتنا پڑا کہ وزیراعظم کی بہن ہونے کی وجہ سے تنقید کی زد میں آگئی۔ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے قواعد کے مطابق ایسی غلطی کو آپ جرمانے کی ادائیگی سے سدھار سکتے ہیں۔ اس جرمانے کا تعین متعلقہ ٹیکس افسر کرتا ہے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس نے جرمانے کی رقم زیادہ کردی تو آپ اس کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ ایک اچھا ٹیکس کا وکیل یہ اپیل اگر کرتا ہے۔ تو جرمانے کی رقم بآسانی اسی فیصد تک کم کروا سکتا ہے۔

علیمہ خان کی بدقسمتی کہ وہ عمران خان کی بہن تھی، چنانچہ ریوینیو ڈیپارٹمنٹ نے اس پر فلیٹ کی رقم یعنی ساڑھے سات کروڑ کا پچیس فیصد ٹیکس اور پچیس فیصد جرمانہ کردیا۔

علیمہ خان نے اپنے بھائی کو تنازعات سے بچانے کیلئے پونے چار کروڑ روپے کی رقم ادا کردی، حالانکہ اگر وہ چاہتی تو ایک وکیل کو پانچ لاکھ دے کر یہ جرمانہ بیس لاکھ کروا سکتی تھی۔

ایک طرف عمران خان کے رشتے دار ہیں جو قانون میں دی گئی رعایات بھی استعمال نہیں کرتے اور کروڑوں کے اضافی ٹیکس ادا کررہے ہیں، دوسری طرف شریف برادران اور زرداری ہیں کہ جنہوں نے قوم کے کھربوں روپے لوٹے۔
لیکن جب ان کے خلاف کاروائی ہوئی تو انہوں نے لیٹرینوں کے گندا ہونے اور قبر کے ٹرائل کرنے کا شور مچا دیا۔

لیڈرشپ کا فرق آپ کے سامنے ہے، اب یہ آپ کے ظرف، عقل اور شعور پر منحصر ہے کہ آپ کس لیڈرشپ کا ساتھ دیتے ہیں!!!
SOURCE.

Your Comments Will help Us to Improve.