Image: Article Topic

‏کیا ہم کورونا وائرس کو شکست دےپائیں گے اور اسکے بعد جس صورتحال کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا چلیں اس پہ ایک نظر ڈالتے ہیںہم ایک غریب ملک میں رہ رہے ہیں جہاں سالہا سال سے پولیو اور ڈینگی جیسے مرض ختم نہیں ہو پائے تو ہمیں یہ امید کرنی چاہیے کہ ہمارے ملک سے کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری ختم ہو سکتی ہےابھی جو عوام لاک ڈاؤن سے پریشان ہے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے

کیا لاک ڈاؤن کے بعد سڑکوں ریسٹورنٹ پبلک پلیس تفریح گاہوں اور ہر اس جگہ پہ جہاں ضرورت زندگی کی اشیاء اور کچھ تفریح کا ساماں میسر ہو وہاں عوام کا تانتا نہیں بندھے گا؟ایسے میں اگر ایک بھی کورونا وائرس جیسا مریض ویکسینیشن کے بنا رہ گیا تو کیا ہم کسی بڑے سانحے سے بچ پائیں گے اور ہماری گورنمنٹ کیا ہر انسان تک رسائی رکھتی ہے کہ انہیں ویکسین دے سکے؟

ابھی تک کی صورت حال یہ ہے کہ ملک کے کئی بڑے شہروں اور بڑے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے کٹس ہی موجود نہیں تو ایسے میں ویکسینیشن کا مرحلہ کیسے طے پائے گا؟ اب آتے ہیں مہنگائی کی طرف کہ جو مزدور طبقہ دوکان دار حضرات اور بالخصوص پرائیویٹ فرم میں کام کرنے والے لوگ جو کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ ہےجو کہ ممکنہ طور پر حالات کے پیش نظر تقریباً بیس پچیس دن بے روزگار ہوں گے اور تنخواہیں کم ملیں گی پھر رمضان المبارک بھی شروع جوکہ اس ملک میں نیکیاں کمانے کے بجائے مال بنانے میں کاروباری حضرات مصروف ہو جاتے تو اس پہ کیسے پایا جائے گا ہماری گورنمنٹ قوم کو ریلیف دے گی یا عوام کے ویکسین خریدے گی

یہ تمام وہ سوالات ہیں جو کہ لاک ڈاؤن کے بعد پیش آئیں گے اور عوام پہ کورونا سے زیادہ قہر ڈھائیں گے..

ملک عامر شہزاد

Your Comments Will help Us to Improve.