جوہر ٹاؤن، لاہور، کی نجی یونیورسٹی کی ایم بی بی ایس فائنل ائیر سیالکوٹ کی طالبہ روزینہ خالد کی موت نشے کی کثرت سے ہوئی۔
ہاسٹل میں رہنے والی طالبہ کا والد گاؤں میں ایک معمولی ہیئرڈریسر ہے۔ جنہوں نے محنت مزدوری سے کما کر اپنی بیٹی کو پڑھایا۔ تاکہ وہ ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں۔
لیکن ہمارے عصری تعلیمی اداروں میں انتظامیہ اور ڈرگ مافیا کے سرپرستی میں چلنے والے منشیات کے سرعام مکروہ دھندے کی وجہ سے ان کا یہ خواب چکنا چور ہوگیا۔
پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں کے تمام تعلیمی اداروں میں منشیات کا دھندہ عروج پر ہے۔ اور اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی باقاعدہ سرپرستی حاصل ہے۔
آذاد خیال ماحول اور حقوق نسواں کی آڑ میں حوا کی بیٹی غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ اور اس میں آدھا قصور خواتین کا بھی ہے۔ جو اپنے والدین کے بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی عزت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

Your Comments Will help Us to Improve.