بیٹیوں کو کیسا ہونا چاہیے؟
اور یہ تو آج کے دور کی بھی حقیقت ہے کہ والدین اولاد میں بیٹے کو گود میں دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں کہیں کہیں باپ بیٹے کا طالب ہے تو کہیں ماں_
                    ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو قسمت پہ شاکر اور بیٹیوں کی ولادت پر خوشی مناتے ہیں والدین کا بیٹے کی خواہش کرنا غلط ہر گز نہیں لیکن انکا قسمت سے ناراض ہو جانا غلط ضرور ہے ہر بیٹی کی اپنی صورت ایک رحمت بن کر آتی ہے ہر بیٹی کی پیدائش پر والدین سے کوئی مشکل یا تنگی واپس لے لی جاتی ہے_
         بیٹی کی پیدائش اللہ کے راضی ہونے کی دلیل ہے
آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے
جسکا مفہوم ہے
جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو وہ عورت بہت خوش قسمت ہے…
          ماؤں کو اکثر بیٹوں کی چاہ زیادہ ہوتی ہے اور اگر آپکے بھائی ہیں تو اس حقیقت سے اچھے سے واقف ہوں گے کہ ماؤں کو بہن بھائی کی لڑائی میں بہن غلط لگتی ہے کیونکہ بھائی تو انکا بیٹا ہے لڑکا ہے.

  بعض مائیں اکثر بیٹوں کے لیے وہ چیز جو کسی کے گھر سے آئے اور کم مقدار میں ہو چھپا دیتی ہیں.   خیر میرے ساتھ ایسا نہیں ہے کیونکہ وہ چیز جو تین میں تقسیم ہونے سے لڑائی ہوگی اس کا مجھ اکیلی کا کھا لینا بہتر ہے میری اماں ایسا اس لیے بھی کرتی ہیں کیونکہ پھر میں نے بیٹوں کے لاڈلے ہونے پہ جذباتی تقریر خاندان کے ہر فرد کے آگے کرنی ہے تو بہتر ہے وہ مجھے بریانی کی وہ پلیٹ ہی کھلا دیں جو پڑوس سے آتی ہے.

   خیر یہ تو بس ایسے ہی تھا    اکثر دیکھا گیا ہے بیٹے اور بیٹیاں جب بڑے ہوجاتے ہیں تو اور جاب کرنے لگتے ہیں تو بھائی کام سے آئے تو اماں اسے کوئی کام نہیں کہتی کہ تھکا ہوا آیا ہے اور بیٹی کو ذمہ داری سے برتن دھونے روٹی بنانی یا جو بھی اسکے حصے کا کام ہے لازمی کرنا ہے       تو ہم بیٹیاں جذباتی ہو کر یہ سوچنے لگتی ہیں بیٹے لاڈلے ہیں ہم نہیں. وہ تھک جاتے ہیں ہم نہیں انہیں باتیں نہیں سننی پڑتیں ہمیں دن رات گالیاں
کتنی معصوم ہوتی ہیں نا ہم بیٹیاں
  

اگر اسی چیز کو ہم ماؤں کی نظر سے دیکھیں تو وہ ہماری تربیت اور ترتیب کر رہی ہوتی ہیں یعنی اگر آگے چل کر بھی ہمیں جاب کے ساتھ گھر چلانا پڑے تو ہمیں کوئی دقت نہ ہو تھکاوٹ نہ ہوں ہم عادی ہوں کیونکہ گھر بیٹیوں کو چھوڑ کر جانا ہوتا ہے بیٹیوں کو نہیں_
      اور یہ تو حقیقت بات ہے نا کہ شادی کے بعد ماں کا رویہ ایک دم بدل جاتا ہے وہ گھر آئی بیٹی کو زیادہ سے زیادہ آرام کرواتی ہے اسکے بچوں کی مکمل ذمہ داری اٹھا کر اسے کچھ دن کا ذہنی سکون فراہم کرتی ہے تو جب یہ اماں شادی کے بعد یہ سب کر سکتی ہے تو شادی سے پہلے نہ کرنے کی وجہ ہی یہ ہوتی ہے کہ انکی بیٹی کام چور نہ بنے_
یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ ماں بیٹی کا تعلق کیا ہوتا ہے یا کیسا ہونا چاہیے بلکہ یہ ہے
بیٹیوں کو کیسا ہونا چاہیے
    بیٹیوں کو بےباک نہیں ہونا چاہیے
انہیں اپنی روایات سے گھٹن نہ محسوس ہوتی ہو بلکہ اپنی روایات سے محبت اور انکا پاس ہونا چاہیے
میں یہ نہیں کہتی بیٹیاں ہر چیز سے اندھی یا گونگی ہو جائیں ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں جب تک اماں کی چار سن کر ایک نہ سنا لیں بیٹیاں مرنے والی ہو جاتی ہیں😂
لیکن بیٹیوں کو باہر خاموش رہنا چاہیے
اگر والدین نے پردے کی سختی نہیں تو بیٹیوں کو کم از کم ایسے لباس میں ضرور ہونا چاہیے جو انہیں باتمیز باشعور ہونے کے ساتھ ایک اچھے خاندان سے تعلق والا ثابت کرے_
بھائیوں سے لڑائی میں کوئی خاطر بھلے باقی نہ رکھیں مگر گھر سے باہر بیٹی کو جھگڑالو اور زبان دراز نہیں کہلانا چاہیے
بیٹی کو پڑھائی کے لیے ملی آزادی کو پڑھائی تک محدود رکھنا چاہیے
بیٹیوں کو والدین پر بھروسہ کرنا چاہیے
اپنے فیصلے میں بیٹی کو آزادی کی خواہش کبھی بھی نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ پھر ہماری ہر ٹھوکر کے ذمہ دار ہم خود ہو جاتے ہیں اور پھر والدین کبھی اس غلطی کی ذمہ داری نہیں لیتے
بیٹیوں کو کام چور نہیں ہونا چاہیے ہم اپنے لیے پڑھتے لکھتے ہیں والدین پہ احسان نہیں کرتے میں یہ نہیں کہہ رہی کہ بھاگ بھاگ کر سارے کام کریں بلکہ دو چار کام اماں کے سپرد بھی کریں یا دو چار کام اپنے ذمے لیں اور انہیں ذمہ داری سے کریں
اماں گھر پہ نہ ہو تو بیٹی پورا گھر سنبھال لینے کے قابل ہونی چاہیے
بیٹی کو والدین کا فخر بننے کے مواقع کم ملتے ہیں مل جائیں تو ضرور نہ ملیں تو کوئی مسئلہ نہیں
آپ اپنے والدین کے لیے باعثِ شرمندگی نہ بنیں
بیٹی کو اخلاق والا ہونا چاہیے تاکہ اماں کی غیر موجودگی میں آنے والے مہمانوں پر برا تاثر نہ پڑے
والدین بیٹے سے محبت اس لیے بھی زیادہ رکھتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ آگے چل کر وہ انکی ذمہ داری اٹھائے گا
بیٹی ساری عمر ایسا نہیں کر سکتی مگر بیٹی کو اس قابل ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہر ضرورت اور خواہش کا بوجھ ماں باپ پر نہ ڈالے
بیٹی کو بیٹی لگنا چاہیے کیونکہ بیٹی جب بیٹا بننے کی کوشش کرتی ہے تو بدتمیز اور زبان درازی کی آخری حدود تک بھی جاتی ہے کیونکہ عورت مرد کے مقابلے میں کمزور اور نازک بنائی گئی ہے وہ حد سے بڑھا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی
بیٹی کو والدین کے لیے حساس ہونا چاہیے کیونکہ بیٹی کے بارے میں یہ بات عام ہے بیٹا کبھی بھی بدل سکتا ہے مگر بیٹی ساری عمر اپنے والدین کی محبت اور احساس میں کمی نہیں آنے دیتی
بیٹی کو والدین بھائی اور اپنی عزت کا ذمہ داری دی گئی ہے اس یہ ذمہ داری ایمانداری سے نبھانی چاہیے
ہم لڑکیاں سوٹ خریدتے وقت دوپٹہ بھی کھلوا کر چیک کرتی ہیں کہ کہیں اس میں چھید نہ ہو پھر ہم کیسے کسی کی چند تعریفوں یا تحائف پر پھسل کر والدین کی عزت تار تار کر سکتی ہیں
بیٹی کو اتنا مضبوط اور پارسا ہونا چاہیے کہ کبھی کوئی تہمت اسکا پیچھا نہ کرے
ہر بیٹی کو عام رہنا چاہیے کیونکہ خاص کی خواہش اسے بہت سی چیزوں سے اندھا کر دیتی ہے
بیٹی کو ہر مقام پر اس احساس کو ساتھ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی تربیت ریپریزنٹ کر رہی ہے
بیٹی کو معاشرے سے چونکا رہنا چاہیے کیونکہ یہ معاشرہ بہت سی بیٹیوں کا قاتل ہے
اللہ ہم سب کو ہر معاملے میں بہترین عطاء فرمائے آمین ثم آمین

By: مہہ ثنا خان

Also read Writer previous Articles:

Your Comments Will help Us to Improve.