میں اور میری انگریزی
Image: Article Title” میں اور میری انگریزی”

آپ نے بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو کہتے ہیں کہ انہیں انگریزی سے نفرت ہے میں خود بھی ایسے لوگوں میں کچھ عرصے تک شامل رہی ہوں اور یقین کریں ایسا وہ اس لیے نہیں کہتے کہ انہیں واقعی نفرت ہوتی ہے انگریزی سے بلکہ ایسا وہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے اندر کے احساسِ کمتری کو کم کرنا ہوتا ہے جو انکے دل کو چبھ رہا ہوتا ہے کہ لوگوں کو تو آتی ہے مگر ہمیں انگریزی نہیں آتی.
میں ایسے لوگوں کی مثال میں لومڑی کی کہانی کو پورا اترتے ہوئے پاتی ہوں جب اس نے انگور دیکھے تو انکے لیے کوشش تو کی مگر محنت نہیں کی بلکہ اسے اپنی ہار کو چھپاتے ہوئے یہ کہنا زیادہ آسان لگا کہ انگور کھٹے ہیں جبکہ کھوٹ انگوروں میں نہیں لومڑی کی کوششوں میں تھا اگر وہ محنت کرتی تو ہو سکتا تھا پیاسے کوے کی طرح کامیاب ہو ہی جاتی لیکن وہ لومڑی دراصل ہم انسانوں کی طرح تھی جسے یہ تسلیم کرنا انتہائی مشکل لگا کہ وہ ناکام ہو گئی ہے اور اسکی بنسبت انگوروں کو الزام دینا زیادہ آسان تھا.
ہم انسان بھی ایسے ہی ہیں جو ہمیشہ الزام دینے کے لیے وجہ تلاشتے رہتے ہیں جبکہ اپنی ناکامی یا ہار کو تسلیم کرکے شروع سے شروع نہیں کرتے اور نا ہی محنت کی مقدار بڑھانے پر توجہ دیتے ہیں.
خیر میں اگر اپنی بات کرتی ہوں تو میں نے بھی انگلش سیکھنے کی معمولی سی کوشش کی تھی جب مجھے بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ بھئی تمہارے پاس نیٹ اور اسمارٹ-فون دونوں موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور انگریزی سیکھ لو تو میں نے انکی نصیحت پہ عمل کرتے ہوئے یوٹیوب کا سہارا لیا تو ابتدائی کچھ دن تو میں نے جن سر کی انگریزی سکھانے والی وڈیوز دیکھیں وہ بہت ہی مشکل ترین تھی مجھے ابتدا نہیں آتی تو میں کیسے سیکھ سکتی ہوں.
بس یہی سوچ کر میں نے دوسری ویڈیوز دیکھنا شروع کیا تو وہ اس قدر آسانی پر مشتمل تھیں کہ میں نے یہ سوچ کر دیکھنا چھوڑ دیا کہ “اتنا تو مجھے بھی آتا ہے” ظاہر ہے ہم انسان کسی بھی صورتحال میں خود کو شاباشی دئیے بغیر کہاں رہ سکتے ہیں. آج جس دور میں ہم نئی نسل موجود ہیں اس میں انگریزی زبان لازم و ملزوم ہے ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ آتی ہے تو ٹھیک نہیں آتی تو کوئی بات نہیں بلکہ آجکل اگر انگریزی آتی ہے تو اسے اور اچھی طرح سے سیکھنا چاہیے والا دور چل رہا ہے.
میں نے اپنی زندگی کے گذشتہ پانچ سالوں سے یہ سیکھا ہے کہ کوشش اور محنت میں کتنا فرق ہے گوکہ کوشش ابتدائی مرحلہ ہے مگر محنت ہمیں منزل تک لے کر جاتی ہے کوشش میں بھی محنت نہ ہو تو کوشش کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک گلاس پانی سے تیرنا سیکھنے جیسا ہے.
میں نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اردو سیکھ پائے نا انگریزی.
ان لوگوں کے حال سے نصیحت پکڑتے ہوئے میں نے اردو کو بہتر کر لیا کہ چلو جب تک انگریزی نہیں آتی تب تک جو آتا ہے اسی میں بہترین ہو جائیں.
آپ لوگوں کو یہ جان کر ہنسی بھی آئے گی اور حیرت بھی ہوگی کہ میں یہ بلاگ پہلے انگلش میں لکھ چکی ہوں اور مجھے کسی نے کوشش کے تو دس نمبر دئیے ہیں مگر گرامر کی غلطیوں کے باعث اسے اردو میں ہی لکھنے کا مشورہ بھی دیا.
مگر میں اس چیز سے مایوس ہر گز نہیں ہوسکتا ہے کہ میں آئندہ چند سالوں میں انگریزی میں اس قدر بہترین ہو جاؤں کہ مستقبل کے بچوں کو انگریزی سکھایا اور پڑھایا کروں. کیونکہ مجھے بچپن سے سکھایا گیا ہے کہ محنت کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی تو پھر انگریزی پر محنت کرکے دیکھتے ہیں انشاءاللہ کامیاب ہی ہونگے.
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں یہ بات ہمیں واضح طور پر بتا دی ہے
کہ اللہ اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا
نہ ہو جسے خیال اپنی حالت کے بدلنے کا
آج کے دور میں جدید تعلیم کتنی ضروری ہے یہ ہم سب بہتر طور پر جانتے ہیں انگریزی اس تعلیم کا سب سے بنیادی حصہ ہے.
ایسا نہیں ہے کہ انگریزی نہیں آتی تو آپ کچھ کر نہیں کر سکتے.
لیکن ایسا بھی ہے کہ انگریزی کے سیکھے بغیر ہم بہت کچھ ایسا ہے جو نہیں کر سکتے.
ہر ملک قومی زبان کو بہت اہمیت دیتا ہے عوام کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے.
جتنی ضروری انگریزی سیکھنا ہے اردو سیکھنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے.
تو بس میں بھی اپنے حال پر مستقبل کی امید میں محنت کرکے دیکھتی ہوں آپ بھی مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں.

By: مہہ ثنا خان

Also Read Writer previous Articles:

Your Comments Will help Us to Improve.