ذہنی بیمار وکلاء
image: ذہنی بیمار وکلاء

کل پاکستان کے پڑھے لکھے جاہلوں نے پاکستان کا نام پھر سے ناصرف منوں مٹی تلے دبا دیا بلکہ اپنی جہالت کے باعث قاتلِ انسانیت اور انسان بھی بن گئے وہ وکلاء جن پر یہ یقین رکھ کر عوام انکو منہ مانگی قیمتیں دیتی ہے صرف اس لیے کہ وہ انہیں انصاف دلانے میں کردار ادا کرتے ہیں آج انکے گھٹیا کردار نے لاہور کو اندھیرا کر دیا.


آج وہ شہری جو وکلاء کے اس وحشیانہ حرکت کے باعث اپنے خاندان کا ایک فرد کھو چکے ہیں انہیں ان پڑھے لکھے قانون دانوں سے اس وقت کس قدر نفرت محسوس ہوتی ہو رہی ہو گی اس قدر افسوس اور حیرت-زدہ بات ہے کہ ہارٹ ہوسپٹل پر یہ وکلاء حملہ کس طرح کر سکتے ہیں کیا وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ہارٹ پیشنٹس کے لیے ہنگامہ کس قدر خطرناک ہوتا ہے ڈاکٹرز تو ہارٹ پیشنٹس کے سامنے بلند آواز سے بات کرنے سے بھی سختی سے منع کرتے ہیں.
اور دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہ جان بچانے کے بجائے آج لے کر شرمندہ اور پُرملال بھی نہیں ہیں پولیس تماشہ دیکھتی رہی اور پھر انکا کہنا ہوتا ہے کہ عوام ان سے نفرت کرتی ہے اور انکے بارے میں ہمیشہ منفی رائے رکھتی ہے آج جو کچھ ہوا اور انہوں نے جو کردار ادا کیا صرف اسی باعث اسی وجہ سے وہ عوام کے لئے قابلِ نفرین ہیں اگر اس کے بعد بھی حکومت ان وکلاء کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو حکومت بھی جان سے جانے والے شہریوں اور زخمی ڈاکٹرز کی اس حالت کی برابر ذمہ دار ہوگی.
اللہ وفات پانے والے شہریوں کو جنت الفردوس میں جگہ اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے.
آمین ثم آمین

Your Comments Will help Us to Improve.