نظریہ پاکستان اور ہمارا پاکستان
Image:نظریہ پاکستان اور ہمارا پاکستان

‏پاکستان کا مطلب کیا “لا الہ الا اللہ”.

دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کی بنیاد ہی اسی پر تھی کہ ایسا ملک ہو جہاں اسلام اور اسلامی قوانین قرآن اور قرآنی تعلیمات کا راج ہو جہاں مسلمانوں کو مذہبی آزادی ہو جہاں انہیں خوف کے سائے میں نہ جینا پڑے جہاں اللہ کی حاکمیت ہو جہاں اسکے بتائے قوانین کے مطابق حکمران حکومت کریں جہاں ہر شخص کو مذہبی اور شخصی آزادی دی جائے گی ایک ایسا اسلامی ملک جو تمام اسلامی ممالک کے لیے مثال ہوگا

چوہدری رحمت علی نے پاکستان کے ہر لفظ کی وضاحت اس طرح کی تھی

پ سے پنجاب ا سے افغانیہ(خیبر پختونخواہ) ک سے کشمیر س سے سندھ اور تان سے بلوچستان

انہوں نے پاکستان کو ہر صوبے سے انصاف کے ساتھ جوڑا تھا وہ کہتے تھے پاک سے مراد پاکیزہ اور صاف ستھرے لوگوں کی سرزمین.

اگر ہم ایمانداری سے اپنا تجزیہ کریں تو پاک اور صاف لوگوں کا دور گزرے تو زمانہ ہو گیا ہے ہم نے زمانے کے ساتھ ترقی کی ہے اسلام کو ساتھ لے کر بلندیاں حاصل نہیں کیں وہ ملک جسے یہ ثابت کرنا تھا کہ ان غلیظ بیماریوں کا علاج اسلام اور قرآنی تعلیمات کے ذریعے ممکن ہے جس میں مغربی ممالک مبتلا تھے اس ملک نے ان تمام بیماریوں کو ایسے اپنایا کہ ذلیل ہو کر رہ گیا ہے آج ایسی کونسی برائی نہیں ہے جس میں ہم مسلمان مبتلا نہیں ہیں

نظریہ پاکستان اور ہمارے پاکستان میں اتنا فرق کیسے آ گیا وہ لوگ جنہیں مثال بننا تھا وہ مذاق بن کر رہ گئے ہیں پہلے مسلمان صرف سو رہے تھے آج کے مسلمان مردہ ہو چکے ہیں پہلے کے مسلمانوں کو جگانے کے لیے سرسید احمد خان علامہ اقبال اور دوسرے بہت سے لوگ موجود تھے لیکن آج کے دور میں وہ لوگ ہیں نا وہ ضمیر رہے ہیں پہلے صرف جدید تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت تھی مگر آج دینی تعلیم حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے وہ ملک جہاں بچے بچیاں اپنے محرم رشتوں سے محفوظ نہیں ہیں اسے اسلامی ملک کیسے کہا جا سکتا ہے

بچے صرف اے پی ایس میں نہیں مرے تھے ہمارے بچے ہر روز ایک اذیت اور دردناک جرم کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں ایک اندازے کے مطابق صرف ایک مہینے میں پاکستان میں اس سنگین جرم کے ہاتھوں موت کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی ہے نئی نسل پروان چڑھنے سے پہلے اجڑ چکی ہے.

میں موجودہ حکومت پر تنقید ہرگز نہیں کر رہی مگر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات صرف اس حکومت میں خطرناک حد تک گئے ہیں اکیس سال کی زائد عمر شخص اگر اس جرم کا ارتکاب کرے گا تو اسے پھانسی کی سزا دی جائے گی اس حکومت کا یہ قانون پاس کرنا قابلِ تحسین قدم ہے مگر صرف یہ قانون پاس کرنا کافی نہیں ہے جب تک ایسے مجرموں کو پھانسی دی نہیں جائے گی تب تک اس جرم کی روک تھام ناممکن ہے

ہم کب تک جسٹس فار زینب جسٹس فار فلاں کے ٹرینڈ کرتے رہیں گے ہمارے ٹرینڈز ان بچوں کو انصاف نہیں دلا سکتے حکومت دلا سکتی ہے اور آئندہ بچوں کو بچا سکتی ہے اب ہمیں متحد ہو کر صرف ایک ٹرینڈ چلانا چاہیے

‘save new generation’

تاکہ ہمارے بچے محفوظ ہو کر پرسکون زندگی گزار سکیں اور ملک کے صرف لفظی نہیں بلکہ عملی معمار بن سکیں.

ہمیں پٹھان پنجابی سندھی بلوچی ہوکر نہیں پاکستانی ہو کر سوچنا ہوگا کیونکہ بچوں کو اس جرم کا نشانہ بناتے وقت بچوں کی ذات نہیں دیکھی جا رہی بچے تو سب ایک جیسے ہی معصوم ہوتے ہیں کوشش کیجئے کہ اب تمام بچے اپنا بچپن مکمل جئیں انہیں وقت سے پہلے سمجھداری اور آگاہی دینے کی ضرورت کبھی کسی والدین کو دینے کی ضرورت پیش نہ آئے.

آمین

Your Comments Will help Us to Improve.