عورت کی آزادی اور آزادی مارچ
عورت کی آزادی اور آزادی مارچ

آج کل عورت کی آزادی اور آزادی مارچ بہت زیر بحث ہے ۔میں بالکل بھی آزادی مارچ کی مخالفت نہیں کروں گی بہت اچھی بات ہے اگر عورت کی آزادی کے حق میں مرد آواز اٹھا رہے ہیں عورت کا بھی حق بنتا ہے آزادی کو محسوس کرنے اور آزادی سے جینے کا اور یہ حق تو اسے اسلام بھی دے رہا ہے تو پھر لوگوں کو اعتراض کیوں ہے

اگر ان اعتراضات کی وجہ تلاشنے جائیں تو بہت سے لوگ اپنی اپنی وضاحتیں پیش کریں گے کوئی مذہب کا جواز دے گا کوئی عورت کو خراب کہے گا کسی کو یہ فحاشی لگے گی اور بھی کئی وجوہات پیش کی جائیں گی.

لیکن جب اسلام عورت کو آزادی دے رہا ہے تو مرد کیوں اس آزادی کی مخالفت کر رہے ہیں اور کچھ مردوں کے علاوہ عورتوں کی ایک کثیر تعداد بھی آزادی مارچ کی مخالفت میں ہے ایسا کیوں ہے؟

ایسا اس لیے ہے کہ کیونکہ یہ آزادی مارچ جائز ہے ہی نہیں یہ آزادی مارچ عورتوں کے حقوق کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ آزاد عورتوں کی مزید آزادی کے لیے ہے کیونکہ آزادی مارچ میں تو شرکت محض وہی خواتین کرتی ہیں جو پڑھی لکھی اور آفسز میں جاب کرنے والی ہیں جنہیں اتنی آزادی میسر ہو ان کے ایسے کونسے حقوق ہیں جو ان کے خاندان کے مرد انہیں دینے میں ناکام رہے ہوں.

آزادی مارچ اگر ان عورتوں کے حق میں ہوتی جن کے شوہر شراب پیتے ہیں انہیں پیٹتے ہیں انکی وہ کمائی چھین کر اپنے نشے کا سامان کرتے ہیں جو وہ عورتیں انہیں مردوں کے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کماتی ہیں یہ آزادی مارچ ان عورتوں کے لیے ہوتی جنہیں معذور شوہر اور اپنے بچوں کی ذمہ داری اکیلے تنہا نبھانی ہوتی ہے تو میں اس آزادی مارچ کے مکمل حق میں ہوتی. کیونکہ قرآن مرد کو کہتا ہے کہ “تمہاری عورتیں تمہارا لباس ہیں” اور قرآن پھر عورت کے لیے کہتا ہے ‘جب تم گھروں سے نکلو تو بڑی چادر اوڑھ لیا کرو اور اپنے چہروں پر گھونگھٹ ڈال لیا کرو’ مطلب اسلام عورت کو آزادی بھی دیتا ہے اور اس پہ ذمہ داری بھی ڈال دیتا ہے. تو مجھے ان مردوں پہ حیرت ہے جو مسلمان مرد ہوتے ہوئے عورت کے جینز پہننے کو اس کا حق کہتے ہیں اس کے بےپردہ ہونے کو اس کی مرضی قرار دیتے ہیں.

جب قرآن میں پردے کا چہرہ ڈھانپنے کا حکم آ گیا تو آپ کیسے مسلمان ہیں جو اسلام قرآن اور نبی کی مخالفت کرتے ہوئے عورت کی اس آزادی کو اس کا حق کہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے جب پردے کا حکم دیا تھا تو اس لیے دیا تھا ‘کہ تم کافر عورتوں سے ممتاز نظر آؤ’ اس لیے بھی دیا تھا “اور تاکہ تم ستائی نہ جاؤ” اور آج وہی عورتیں جینز اور ٹی شرٹ پہن کر مردوں سے اپنے حقوق طلب کرنے نکلی ہیں جنہیں یر طرح کی آزادی اور سہولت میسر ہے یہ عورتیں مسلمان عورتیں تو ہرگز بھی نہیں ہیں جنہیں آزادی مغرب کی عورت کی طرح چاہیے اور حقوق اسلامی تعلیمات کے مطابق.آپ مرد ہوتے ہوئے ان بچوں کے لیے ایک مارچ نہیں کرتے جو مردوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہو کر مارے جا رہے ہیں؟

تو ان عورتوں کے حق میں آواز کیوں اٹھاتے ہیں جنہیں فحاشی کی ہر حد سے گزرتے ہوئے اسلام اور قرآن کی مخالفت کرنی ہے.ایسی عورتوں کو مسلمان کہنا مسلمانیت کی توہین ہے اور ایسے مردوں کو جنہیں یہ ٹھیک لگتا ہے انہیں غیرت مند مسلمان کہنا غیرت کی توہین ہے. اگر آزادی مارچ ان عورتوں کے لیے کی جاتی ہے جنہیں واقعی انکے اسلامی حقوق میسر نہیں تو مجھے اس آزادی مارچ سے الفت ہے کیونکہ مجھے اسلام سے بھی محبت ہے اس لیے میرے نزدیک موجودہ آزادی مارچ ایک بےحیائی کا پیغام دینے کے سوا کچھ نہیں ہے.

آزادی رائے ہر شخص کا حق ہے اور آزادی بھی مگر حد سے بڑھ جانے والی آزادی تباہیوں کے سوا کچھ نہیں دیتی. اور آج کے دور میں ہم آزادی کی تلاش میں نکلتے نکلتے اس مقام پر آ گئے ہیں جہاں ہم پھر سے مغربی تہذیبوں کے غلام ہو چکے ہیں. واللہ اعلم

Your Comments Will help Us to Improve.