“ہم کافروں سے کافر ، کافر خدا ہمارا”
یہ علامہ اقبال کے شعر کا ایک مصرع ہے پڑھنا ضرور۔ جب یہ شعر اس وقت کے علماء نے سنا۔ تو سب اپنے چیلوں کے ساتھ ڈنڈے لے کر علامہ اقبال کے گھر پر چلے گئے۔ اور کہا کہ یہ اپنے کیا لکھا ہے۔ آپ نے تو ہم کو اور خدا کو بھی کافر کہا۔ تو علامہ اقبال نے ان علماء سے پوچھا۔ کہ کیا آپ لوگ لفظ “کافر” کے معنی جانتے ہو؟

سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو ان میں سے کوئی بھی لفظ کافر کے معنی نہیں جانتا تھا۔ تب علامہ اقبال نے ان کو سمجھایا کے لفظ کافر کا مطلب ہے “منکر” میں نے تو یہ ہی کہا ہے۔ کہ ہم ان منکروں سے منکر ہے جو ہمارے اللّه سے منکر ہے اور ہمارا اللّه بھی ان منکروں سے منکر ہے جو اللّه سے منکر ہے۔

جب سب کو کافر کے معنی سمجھ آگئے تو ایکدوسرے سے کس پس کر کے واپس چلے گئے۔

JUIF supporters preparing for protest in Long-March towards Islamabad

اب یہ ہی حال موجودہ چیلوں کا بھی دکھائی دے رہا ہے۔ ان کو کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے صحیح اور غلط کا۔ یہ بیچارے تاریخ اور سیاست سے واقف تو ہیں نہیں بس جب مولانا صاحب اس کو کہتا ہے کہ “اسلام کو خطرہ ہے” یہ ڈنڈے لے کر آجاتے ہیں۔ مزید دیکھیں، دھرنا موخر کرنے کیلئے فضل الرحمن نے حکومت کے سامنے کیا مطالبات رکھے؟۔

ارے بھائی جس بات کو لے کر مولانا صاحب دھرنا دینا چاہتا ہے۔ وہ تو پچھلی حکومت میں ختم نبوت میں ترمیم کی کوشش کی گئی تھی۔ اور فضل الرحمن اسی حکومت کے اتحادی تھے۔ مزید دیکھیں، نوازشریف کا شہبازشریف کو جیل سے لکھا گیا خط منظر عام پر۔

عمران خان نے تو دنیا کو بتایا ہے۔ کہ مسلمانوں کو توہین رسالت (ص ع و) سے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ جب یہ سچ مولانا کے چیلوں کو پتہ چلے گا۔ کہ وہ تو کرسی بنگلہ اور وزارت چور نواز اور زرداری کو بچانے کے لیے مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جسطرح اکثر علماء کرام نے اس مارچ سے اختلاف کیا ہے۔ مولانا کے چیلے بھی اس مارچ سے اختلاف کر دینگے۔ لیکن عقل شرط ہے۔

Your Comments Will help Us to Improve.